Saturday, 18 November 2017
اکبر الہ آبادی
بھوکے اور اشتہا انگیزی
Monday, 13 November 2017
افواہ کے نقصانات
راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔۔۔
بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کردی کہ وہ "چور" ہے۔ وہ ہر راہ گیر سے یہی بات کرتا۔۔۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنی کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا۔۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔۔
رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔
بوڑھا سردار کا حکم بجا لایا اور کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ' یہ تو ناممکن سی بات ہے'
سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی۔۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ" کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔۔۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ" کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔
یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں" پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے.۔۔۔۔منقول
Sunday, 12 November 2017
ہر مال بکاؤ ہے
🤑 ﮐﻮﻥﮐﮩﺘﺎﻣﯿﺮﮮﺩﯾﺲﻣﯿﮟﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﻣﻨﺪﮮﭘﮍﮔﺌﮯﮨﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﮔﺮﺩﮦ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮔﺮﺩﮦ ﺧﺮﯾﺪﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﻥ،ﻣﯿﮟ ﻭﻭﭦ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﻭﭦ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﭽﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮩﺎﮞ ﺟﺞ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮐﯿﻞ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﺎﮞ ﻋﻠﻢ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﯾﻦ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔۔
ﯾﮩﺎﮞ ﻧﻌﺘﯿﮟ،قصائد،سلام،نوحے،کلام بیچے ﺟﺎتے ھیں
۔۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺅ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺩﯾﺐ ﮐﮯﮬﺮ جملے، ﻓﻘﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔۔۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺧﻮﻥ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔ ﯾﮩﺎﮞﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﺳﭻ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﯿﻼﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﻣﺘﻮﮞ ﮐﮯ
ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮭﺮﮮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﯾﮩﺎﮞ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﺪﻧﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﮧﻣﺎﻧﮕﯽ ﺭﻗﻢ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﮬﺮ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﺍ " ﺑﻌﺪﮐﭽﮫ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭ، ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ، ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻤﻌﮧ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮨﻔﺘﮧ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ۔۔
ﯾﮩﺎﮞ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﻮﺩﺍﻃﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﻧﻔﻞ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﮔﺎ ۔ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﺎ ۔
ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺩﮮ ﻣﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺩﮮ ﭼﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺩﮮ ﺩﺭﺑﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺩﮮ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ﭼﻠﻮ ﺁﺅ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ
ﭼﻠﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﮯ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﺳﮯﺑﯿﭻ ﺩﯾﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﺩﮬﻮﭖﺑﺎﺭﺵ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﮑﺮ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﻇﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﻇﻠﻢ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ۔۔
ﭼﻠﻮ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻭﻓﺎﺩﮮ ﺩﯾﮟ ۔۔
ﺁﺅ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻋﺰﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ۔۔
ﺁﺅ ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺅﻭﻗﺖ ﮐﻢ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﺯﻣﯿﻦ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎﺩﺍﻣﻦ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﮯ ۔۔منقول
Thursday, 9 November 2017
نہ خوف برق
:::: غزل :::
نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے
خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے
عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
میں ایک جام ہوں کس کس کے ہونٹ تک پہنچوں
غضب کی پیاس لیے ہر بشر لگے ہے مجھے
تراش لیتا ہوں اس سے بھی آئینے منظورؔ
کسی کے ہاتھ کا پتھر اگر لگے ہے مجھے
ملک زادہ منظور احمد
Wednesday, 8 November 2017
یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں
اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں‘ لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے‘ اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے‘ تمام بدن پر رعشہ طاری تھا‘ حتیٰ کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے‘ ادھر ’’انا‘‘ کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے‘
جانے کیا ہوا سوال زیر بحث تھا‘ فرمایا! مسلمانوں میں تین شخص اب تک ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینئس بھی ہیں اور کامل الفن بھی‘ پہلے ابوالفضل‘ دوسرے اسد اللہ خان غالب‘ تیسرے ابوالکلام آزاد۔ شاعر وہ شاز ہی کسی کو مانتے تھے‘ ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھے‘ اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے‘ کمیونسٹ نوجوانوں نے ’’فیض‘‘ کے بارے میں سوال کیا‘ طرح دے گئے‘ ’’جوش‘‘ کے متعلق پوچھا‘ کہا! وہ ناظم ہے‘ سردار جعفری کا نام لیا‘ مسکرائے ’فراق کا ذکر چھیڑا ’’ہوں ہاں‘‘ کر کے چپ ہو گئے، ’’ساحر لدھیانوی‘‘ کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، فرمایا! مشق کرنے دو، ’’ظہیر کاشمیری‘‘ کے بارے میں کہا، نام سنا ہے، احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا ’’میرا شاگرد ہے‘‘۔ نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کارخ پھیر دیا ’’حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، نشہ میں چُور تھے، زبان پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کرفرمایا ’’کیا بکتے ہو؟‘‘ ادب و انشاء یا شعرو شاعری کی بات کرو، کسی نے فوراً ہی افلاطوں کی طرف رخ موڑ دیا، ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا، مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے، فرمایا ’’اجی! پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں، یہ ارسطو، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھے ہوتے،
ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں‘‘ اس لڑکھڑائی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کمیونسٹ نے سوال کیا’’آپ کا حضرت محمدﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘اللہ اللہ! ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا ’’بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے، ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے، ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟‘‘ تمام جسم کانپ رہا تھا،
ایکاایکی رونا شروع کیا، گھگھی بندھ گئی، ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا، تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب ’’باخدادیوانہ باش، وبامحمدؐ ہوشیار‘‘ اس سوال پر توبہ کرو۔ تمہارا خبثِ باطن سمجھتا ہوں ’’خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے، اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، اس نے بات کو موڑنا چاہا، مگر اختر کہاں سنتے تھے، اسے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے، تمام رات روتے رہے، کہتے تھے ’’یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں‘‘۔
انتخاب. سید ثاقب شاہ
Sunday, 5 November 2017
محبت اور شادی
دوست کا سوال ہے کہ ساتھ جاب کرنے والی خاتون اگر نقاب کرتی ہوں تو ان میں زیادہ ایٹریکشن محسوس ہوتی ہے، اسے دور کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: نقاب والی خواتین کے ساتھ اگر انٹرایکشن بڑھ جائے تو ان میں ایٹریکشن زیادہ فیل ہوتی ہے، یہ بات درست ہے اور اس کی وجوہات نفسیاتی ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ نقاب اترے اور ایک ہی لمحے میں ساری ایٹریکشن ختم ہو جائے۔
تو اس ایٹریکشن کی وجہ یہی ہے کہ تخیل یعنی امیجی نیشن، حقیقت سے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے یعنی آپ ایک خوبصورت جگہ کی سیر کرنا چاہتے ہیں، اس جگہ کی خوبصورتی جو آپ کے تخیل میں آسکتی ہے، وہ اس سے زیادہ ہوتی ہے جو وہاں ریئل میں آپ کو محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ ہر کسی کا مسئلہ نہیں ہو سکتا، ان کا ہو سکتا ہے کہ جن کا تخیل بڑا ہو۔
اس کا حل کیا ہے؟
اگر تو یہ عمومی مسئلہ نہیں ہے کہ کسی ایک آدھ خاتون میں کسی وجہ سے مثلا انٹرایکشن ہونے کی صورت میں ایٹریکشن محسوس ہو رہی ہے اور وہ وقت کے ساتھ بڑھ بھی رہی ہے تو بطور ایک ماہر نفسیات کے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس کی طرف ایٹریکشن محسوس ہو رہی ہے، اس کی تصویر کبھی نقاب کے بغیر دیکھ لیں، اب یہ ایٹریکشن امیجی نیشن سے حقیقت میں داخل ہو جائے گی۔ تو یا تو ختم ہو جائے گی یا پھر لازما کم ہو جائے گی۔
لیکن بطور مذہبی سکالر یہ تجویز کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے لہذا زیادہ بہتر یہی ہے کسی اچھے سے عالم دین سے رائے لے لیں۔ البتہ اس کا ایک اور حل ہے لیکن وہ اس صورت ممکن ہے جبکہ وہ عورت آپ کی طرف اٹریکشن محسوس نہ کر رہی ہو۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ آپ کو جھڑک دے اور وہ بھی بری طرح سے۔ اس سے بھی امیجی نیشن کا بخار اتر جاتا ہے۔
دوست کا سوال یہ بھی ہے کہ اگر بیوی سے چار بچے ہوں جائیں تو وہ شوہر کے قابل نہیں رہتی تو ایسی صورت حال میں دوسری شادی کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں.
جواب: دیکھیں دوسری شادی کے حوالہ سے دو باتیں ہیں؛ ایک یہ کہ آپ پہلی سے تنگ ہیں، یا خوش نہیں ہیں، اس لیے دوسری کرنا چاہتے ہیں یعنی ایک سے بھاگ کر دوسری میں سکون تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ تو ایسی صورت حال میں تو میں دوسری شادی کا مشورہ نہیں دیتا کیونکہ ایسا مرد عدل نہیں کر سکتا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کو عورتیں اچھی لگتی ہیں یعنی آپ کو عورت سے محبت ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ میرے دل میں عورتوں کی محبت ڈال دی گئی ہے۔ تو اگر تو آپ پہلی کے قدر دان ہیں کہ اس نے اپنی صحت کی قیمت پر آپ کے لیے اولاد پیدا کی وغیرہ وغیرہ اور آپ پہلی کو چھوڑ نہیں سکتے اور دوسری لازما کرنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں یہی تجویز کرتا ہوں کہ شام ہونے سے پہلے اگر دوسری شادی کر سکتے ہو تو کر لو۔
باقی یہ دنیا دار آزمائش ہے، آزمائش ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ کہنا کہ جنہوں نے دو کی ہیں، ان کی بیویوں سے جا کر پوچھو کہ کیا صورت حال ہے؟
کوئی منطقی دلیل نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ جنہوں نے ایک کی ہے، ان کی بیویاں ان سے کون سا راضی اور مطمئن ہیں؟
تو اصل چیز یہ ہے کہ آپ کے پاس احساس کرنے والا دل اور محبت رکھنے والا مزاج ہے یا نہیں۔ اور یہ کسی کسی کے پاس ہوتا ہے، یہ بات درست ہے۔ اگر ہے تو دوسری شادی میں دیر نہ لگائیں اور اگر نہیں ہے تو ایک دوسری عورت کی زندگی بھی خراب نہ کریں۔
✍ ڈاکٹر مشیر احمد
آخرت کا حساب و کتاب
ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟
استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔
لڑکے بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟
استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔
ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔
پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کیئے تھے۔
جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔
اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا۔
استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔
استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔
لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ *تاہم الله تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے*۔
الله تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔
آمین